History Of Subcontinent From 712 To 1947 In Urdu Pdf Download |top| Jun 2026
مینو میں جا کر یا Save As پر کلک کریں اور فارمیٹ میں PDF منتخب کریں۔
اورنگزیب کی وفات (1707ء) کے بعد مغل سلطنت کمزور ہوتی گئی، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یورپی طاقتوں نے قدم جمانا شروع کیے۔
یہ برصغیر کی تاریخ (712ء تا 1947ء) کا ایک جامع خلاصہ ہے جو اہم ادوار اور واقعات کا احاطہ کرتا ہے۔
خلافت امویہ کے زوال کے بعد، خلافت عباسیہ اقتدار میں آئی، اور سندھ ان کے صوبوں میں سے ایک بنا رہا۔ اس عرصے میں، سندھ ثقافتی اور اقتصادی طور پر ترقی کر گیا، اور شہر، جیسے کہ سیوستان (موجودہ سہiwان) اور ارور (موجودہ تر بت)، اہم تجارتی مراکز کے طور پر ابھرے۔ مینو میں جا کر یا Save As پر
** تاریخ کے صفحات: 712 سے 1947 تک برصغیر کی تاریخ**
1526 عیسવી میں، بابر نے مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی، جو تقریباً تین صدیوں تک ہندوستان پر حکومت کرتی رہی، جس میں سندھ بھی شامل تھا۔ اس عرصے میں، سندھ نے ثقافتی پنرجمی کا تجربہ کیا، کیونکہ مغلوں نے فن، فن تعمیر، اور تعلیم کو فروغ دیا۔
1857 کے بعد مسلمانوں کی حالت بہت ابتر تھی۔ سر سید احمد خان نے علی گڑھ تحریک چلائی۔ 1906 میں مسلم لیگ کا قیام ہوا۔ مینو میں جا کر یا Save As پر
عالمگیر کے دور میں سلطنت اپنے عروج پر پہنچی۔
712 عیسوی میں، عرب فوجوں نے برصغیر پر حملہ کیا، جس میں سولہ سالہ راجہ داہیر کو شکست دی اور سندھ کو فتح کیا۔ یہ اسلامی حکمرانی کے آغاز کا نشان تھا، جو اگلی چند صدیوں تک برصغیر کے مختلف حصوں پر حاوی رہی۔ غزنویوں، غوریوں اور دہلی سلطنت نے برصغیر کے وسیع حصوں پر حکومت کی، جس میں اسلامی فن تعمیر، فن اور ادب کی ترقی ہوئی۔
اس دور میں پانچ اہم خاندانوں نے حکومت کی: مینو میں جا کر یا Save As پر
اکبر، جہانگیر، شاہ جہاں اور اورنگزیب عالمگیر کے دور میں برصغیر دنیا کا امیر ترین خطہ بن گیا۔ فنِ تعمیر (تاج محل، بادشاہی مسجد) اور ادب کو بے پناہ فروغ ملا۔
712 سے 1947 تک کا سفر نہایت دردناک، سبق آموز، اور عظمت سے بھرپور ہے۔ یہ وہ دور ہے جس نے نہ صرف جغرافیہ بدلا بلکہ لاکھوں انسانوں کے عقائد، رہن سہن، اور تقدیر کا فیصلہ کیا۔ آج کے نوجوان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس دور کو سمجھے تاکہ موجودہ حالات کی جڑیں تلاش کر سکے۔